مدرسہ کا تعارف

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

مدرسہ اُمِّ شریک للبنات ایک دینی، تعلیمی اور تربیتی ادارہ ہے، جس کی بنیاد 2007ء میں رکھی گئی۔ الحمدللہ، قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ تسلسل کے ساتھ قائم و دائم ہے اور بچیوں کی دینی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔

مدرسہ اُمِّ شریک للبنات کو جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی کی زیرِ سرپرستی دینی و تعلیمی خدمات انجام دینے کی سعادت حاصل ہے، جبکہ ادارہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے باقاعدہ ملحق ہے۔

ادارے کا بنیادی مقصد طالبات کو قرآنِ کریم، احادیثِ نبویہ، فقہ، عقائد اور دیگر علومِ اسلامیہ کی مستند تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت کرنا ہے، تاکہ وہ اسلامی تعلیمات سے آراستہ ہو کر اپنے گھروں اور معاشرے میں دین کی خدمت اور اسلامی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بن سکیں۔

مدرسہ کے نظم و نسق اور انتظامی امور میں باہمی مشاورت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ادارے کے اہم معاملات اور فیصلے کسی ایک فرد کی ذاتی رائے پر منحصر نہیں ہوتے، بلکہ شورائی نظام کے تحت باہمی مشاورت سے طے کیے جاتے ہیں۔ اس طرزِ انتظام کا مقصد ادارے کے معاملات میں دیانت، شفافیت، ذمہ داری اور اجتماعی بصیرت کو ملحوظ رکھنا ہے۔

الحمدللہ! گزشتہ کئی برسوں سے مدرسہ اُمِّ شریک للبنات دینی تعلیم و تربیت کے اس سفر کو اخلاص، محنت اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے، اور آئندہ بھی قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں طالبات کی علمی و اخلاقی تربیت اور خدمتِ دین کے عزم کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتا رہے گا۔

اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقی، استقامت اور قبولیت عطا فرمائے اور اسے دینِ اسلام کی خدمت کا مؤثر ذریعہ بنائے۔ آمین۔

مالی شفافیت

مدرسہ کے انتظامی و تعلیمی اخراجات کا ماہانہ تخمینہ تقریباً 15,00,000 (پندرہ لاکھ) روپے ہے، جبکہ ادارے کا مجموعی سالانہ خرچ تقریباً 1,80,00,000 (ایک کروڑ اسی لاکھ) روپے بنتا ہے۔

ادارے کے مالی معاملات میں شفافیت اور جواب دہی کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ مدرسہ کے مالی حسابات کا ہر سال باقاعدہ سالانہ آڈٹ کروایا جاتا ہے، تاکہ آمدنی و اخراجات کا ریکارڈ منظم رہے اور عطیات و دیگر مالی وسائل کو ذمہ داری اور امانت داری کے ساتھ ادارے کی دینی و تعلیمی ضروریات پر صرف کیا جائے۔

مدرسہ کا مقصد ایک ایسا مضبوط دینی تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے جہاں طلبہ و طالبات قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دین، اخلاق، کردار اور معاشرے کی خدمت کا جذبہ بھی پیدا کریں۔ اہلِ خیر حضرات کے تعاون سے یہ دینی و تعلیمی مشن مزید وسعت اور استحکام حاصل کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ مدرسہ کی دینی و تعلیمی خدمات کو قبول فرمائے، اسے دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور تمام معاونین و مخیر حضرات کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔

ہمارا نصب العین

قرآن و سنت کی روشنی میں خواتین کی روحانی و اخلاقی تربیت اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگی

ہمارا مقصد ایسی باوقار خواتین تیار کرنا ہے جو دینی علوم میں گہری بصیرت رکھتی ہوں اور جدید دنیا کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔

ہماری تاریخ

قیام سے لے کر اعلیٰ تعلیمی معیار تک کا سفر

01

02

03

بنیاد اور ابتدائی سال

نصاب کی توسیع

معیار اور پہچان

مدرسہ کا قیام خالص دینی جذبے کے تحت عمل میں آیا، جس کا مقصد خواتین کو مستند اسلامی تعلیم فراہم کرنا تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ، ہم نے وفاق المدارس کے نصاب کو مکمل طور پر اپنایا اور عصری تعلیم کے شعبہ جات بھی شامل کیے۔

آج مدرسہ امِّ شریک للبنات ایک تسلیم شدہ تعلیمی ادارہ ہے جو بہترین معلمات اور مثالی تعلیمی ماحول فراہم کرتا ہے۔